Thursday, 19 December 2019

سی سیکشن، پاکستان میں حاملہ خواتین کے ساتھ کھیلا جانے والا خطرناک کھیلcc


پاکستان کا ایک خطرناک کھیل جو پاکستان کی حاملہ خواتین کے ساتھ کھیلا جاتا ہے اور وہ کھیل یہ ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے خواتین کو زبردستی اس بات پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ بچوں کی پیدائش کے وقت آپریشن کروائیں۔

حضرت آدم ؑ کی پیدائش مٹی سے ہوئی پہلے ایک پتلا بنایا گیا اور اس میں روح پھونکی گئی پھر آدم کی پسلی سے بی بی حوّا ؑ کی تخلیق کی گئی جب دونوں دنیا میں تشریف لائے تو ان سے انسانی نسل پھیلی اور بچوں کی پیدائش کا خاص عمل کے بعد عورت کے رحم سے ہوتی رہی- آج سے 10 ہزار سال قبل حضرت آدمؑ سے لیکر آج سے تقریباً چند سال قبل تک بچوں کی پیدائش اسی فطری عمل کے طریقے سے ہوتی رہی جو ہزاروں سال سے نہ صرف انسان بلکہ تمام جانوروں اور دوسری مخلوقات سے بھی جاری و ساری ہے- لیکن اب اچانک پاک و ہند میں یہ تبدیلی آئی ہے اور اب بہت زیادہ عام ہو گئی ہے- 70 فیصد بچوں کی پیدائش آپریشن کے ذریعے ہوتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ باقی تمام مخلوقات مثلاً کتا،بلی ہر ایک کے یہاں بچے کی پیدائش اسی فطری طریقے سے ہو رہی ہے جیسے پہلے ہوتی تھی لیکن واحد انسان ہے جسے قصائی نما ڈاکٹروں نے اپنے پیسے کی ہوس اور لالچ سے اسے غلط راستے میں ڈال دیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آج کل کی خوراک اتنی ناقص ہے کہ اس سے زچہ و بچہ اس قابل نہیں ہوتے کہ آپریشن کے بغیر پیدائش ہو سکے- لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ناقص خوراک کا معاملہ صرف انسانوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ جانور بھی ناقص خوراک کھا رہے ہیں- آج کی گائے اور بھینس بھی یوریا اور کیمیکل سے تیار کردہ گھاس کھا رہے ہیں کتا اور بلی بھی فارمی مرغی کی ہڈیاں اور گوشت کھا رہے ہیں لیکن ان کو تو آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

ہمارے خیال میں اس سارے معاملے میں سوائے پیسے کی ہوس کے کچھ بھی نہیں- دراصل آج کا ڈاکٹر بنا ہی ہے پیسے کمانے کے لیے- ذرا سوچئے والدین اپنے بچوں کو کیوں ڈاکٹر بناتے ہیں کیا ان کے ذہن میں ذرا سا بھی تصور ہوتا ہے کہ میرا بچہ یا بچی انسانیت کی خدمت کرے گا- نہیں بالکل بھی نہیں والدین یہ سوچ کر ڈاکٹر بنواتے ہیں کہ پیسہ زیادہ کمائے گا تو ظاہر ہے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ کہنے کو ڈاکٹر ہوتا ہے لیکن اصل میں انسانیت کو ذبح کرنے والا قصائی ہوتا ہے ۔آج کوئی بھی خاتون پیدائش کے وقت ہسپتال جاتی ہیں تو اسے نفسیاتی طور پر اتنا ہراساں کر دیا جاتا ہے کہ وہ آپریشن کروانے پر مجبور ہوجاتی ہیں چونکہ آپریشن کروانے میں اچھے خاصے پیسے مریض کی جیب سے نکلوائے جا سکتے ہیں اس لیے ڈرا دھمکا کر آپریشن کے لیے راضی کر لیا جاتا ہے ۔

عالمی طور پر آپریشن کروانا اچھا تصور نہیں کیا جاتا کیونکہ اس طرح زچہ وبچہ دونوں عمر بھر کے لیے کئی طرح کی بیماری اور مسائل میں مبتلا ہو جاتے ہیں- سائنسدانوں نے جدید تحقیق کے بعد بتایا کہ جو بچے آپریشن سے پیدا ہوتے ہیں ان کے پانچ سال کی عمر تک پہچنے سے پہلے ہی موٹاپا میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں- نارمل طریقے سے پیدا ہونے والے بچوں کی نسبت 50 فیصد زیادہ ہوتے ہیں اسکے علاوہ ان بچوں کو دمہ کی بیماری لاحق ہونے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے ماں کے آپریشن کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کے نقصانات بتاتے ہوئے کہا کہ جو خواتین آپریشن کے ذریعے بچہ پیدا کرتی ہیں آئندہ ان میں اسقاط حمل ہونے اور بانجھ پن ہونے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق میں یونیورسٹی آف ایڈنبرگ کے سائنسدانوں نے دونوں طریقوں سے پیدا ہونے والے ہزاروں بچوں کو ان کی ماؤں کی صحت کا ریکارڈ حاصل کر کے اس کا تجزیہ کیا اور معالج کو دیا۔

عالمی ادارہ صحت نے آپریشن کے ذریعے پیدا ہونے والے بچے کی پیدائش کو اسکے نقصان کے اثرات کے باعث زچگی کا نا پسندیدہ طریقہ قرار دیا اور 10 سے 15 فیصد سالانہ اسٹینڈرڈ قائم کی ہے۔

لاہور میں قائم پنجاب کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال سر گنگا رام میں ہر سال لگ بھگ ۲۵ ہزار بچوں کی پیدائش ہوتی ہے ۔ہسپتال کے اعداد وشمار کے مطابق ان میں سے ۵۰ فیصد بچوں کی پیدائش آپریشن کے ذریعے ہوتی ہے ۔ڈاکٹروں کے مطابق سی سیکشن محض اس صورت میں ہونی چاہیے جب ماں اور بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہو کیوں کہ جب پیٹ کاٹ دیا جاتا ہے تو اس میں انفیکشن ہو سکتا ہے اور زخم جلدی نہیں بھرتا کبھی کبھی خون بھی نہیں رکتا اور کبھی پیٹ میں مستقل درد کی شکایت رہتی ہے ۔پہلا بچہ آپریشن سے ہونے کے بعد امکان بڑھ جاتا ہے کہ ہر بچہ آپریشن سے ہی ہو۔

آپریشن میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہے کیونکہ نارمل ڈیلیوری میں 10 ہزار کا خرچ ہوتا ہے لیکن اگر آپریشن کیا جائے تو اس پر 30 ہزار سے لیکر 1 لاکھ روپے تک بن جاتا ہے اس لیے بعض ڈاکٹر یہ کام کر جاتے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ غیر ضروری آپریشن کے خلاف اقدامات اٹھانے چاہیے تاکہ خواتین کے ساتھ نا انصافی کا خاتمہ ہو سکے۔


Rate it: 
Share Comments

Sunday, 18 February 2018

سوال: زنا کیا ہے؟

```🅾سوال: زنا کیا ہے؟


🅾جواب: اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحبت / ہم بستری کرے جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کی ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلکہ چھونا بھی زنا ایک حصہ ہے اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے.

🅾ذنا کو اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے، اور اسلام نے ایسا کرنے والو کی سزا دنیا میں ہی رکھی ہے. اور مرنے کے بعد اللہ اس کی سخت سزا دے گا.

🅾ذنا کے بارے میں کچھ حدیث اور قرآن کی آیت دےكھيےحضرت محمد (صلی الله عليه وسلم) نے فرمایا مومن (مسلم) ہوتے ہوئے تو کوئی زنا کر ہی نہیں سکتا. (Bukhari Sharif، Jild: 3، Safa: 614 Hadees: 1714 )

🅾 الله قرآن میں فرماتا ہے اور (دیکھو) زنا کے قریب بھی نہ جانا، کورس وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے "(Al-quraan: Al-Isra: A-32)

🅾ذنا کی سزا اور عذاب: اگر زنا کرنے والے شادی شدہ ہو تو کھلے میدان میں پتھر مارمار کر مار ڈالا جائے اور اگر کنوارے ہو تو 100 کوڑے مارے مارے جائے. (Bukhari Sharif Jild Safa: 615/615 Hadees: 1715)

🅾اج کل دیکھنے میں آیا ہے کی اس گناہ میں بوهت سے لوگ شامل ہیں، خاص کر کے اس بازار میں جہاں عورتیں اور مرد جاتے ہیں کس کا ہاتھ کس کو لگ رہا ہے کہا لگتا ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا، چاہے لڑکا ہو یا لڑكيا اور پھر اس گناہ کو کرنے کے بعد اپنے دوستوں کو بڑی شان سے سناتے ہیں، بلکہ ان کو بھی ایسا کرنے کی رائے دیتے ہیں.

🅾اگر کوئی اکیلے لڑکے یا لڑکی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا گناہ اس کے ماں باپ کو بھی ملتا ہے کیونکہ انہوں نے ان کی جلدی شادی نہیں کی جس کی وجہ سے وہ غلط کام کرنے لگے،
اور شادی کی عمر ہونے کے بعد بھی ماں باپ ان کی شادی نہ کرے تو اللہ ناراض ہوجاتا ہے اور ان کے گھر کی برکت ختم ہوجاتی اور اللہ ان ماں باپ سے قیامت کے دن حساب مانگے گا

🅾ور ایک جگہ اللہ نے قرآن میں فرمایا کی پاک دامن لڑکیاں، پاک دامن لڑكو کے لئے ہیں،

🅾اسكا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو اچھی ہیں تو اللہ آپ کو بھی اچھی بیوی یا دولہا ديگا اور خراب ہیں تو سمجھ لیجیے.

🅾انسان جو بھی غلط کام کرتا ہے اس کی قیمت اس کے بچو، ماں یا بہن کو اس دنیا میں ہی ادا کرنی پڑتی ہے،

🅾امام شافعی رحمتہ الله کہتے ہیں کے زنا ایک قرض ہے، اگر تو اس قرض لے گا تو تیرے گھر سے یعنی تیری بہن , بیٹی سے وصول کیا جائے گا.

🅾دوستو اس کبیرہ گناہ کی اور بھی سزائين ہیں، لہذا خود بھی بچو اور اپنے دوستوں کو بھی بچائیں،

🅾اگر آپ نے اپنے جنسی قصہ آپ کے دوست / سہیلی کو سنایا اور اس کے دل میں بھی ایسا کرنے کی بات آ گئی اور اس نے وہ کام کر لیا تو اس کا گناہ آپ کو بھی ملے گا، کیونکہ آپ نے ہی اس کو غلط راستہ دکھایا ہے .اور آپ کے دوست آگے بھی جتنے لوگو کو غلط راستہ دکھائیں گے ان سب کا گناہ اپكےكھاتے میں آئے گا.

🅾سبكے گھر میں اکثر، بہن، بیٹی، ماں ہیں، اگر آپ دوسرے کی طرف تاک جھانک کرو گے تو آپ کا گھر بھی محفوظ نہیں رہے گا،
🅾 الله ہم سب کو اس بڑے گناہ سے بچائے.

🅾اج آپ اس میسیج اگر کسی 1 کو بھی اسٹاک کردیں تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کتنے لوگ "اللہ" سے توبہ کر لیں گے

🅾 الحديث: -جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو سرا فاتح اور سورہ اخلاص کو پڑھ لیا کرو، تو موت کے علاوہ ہر چیز سے بے خوف ہو جاؤ گے.

🅾وه دن قریب ہے جب آسمان پہ صرف ایک ستاراهوگا.

🅾 توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا.

🅾قران کے حروف مٹ جائیں گے،

🅾سورج زمین کے بالکل پاس آ جائے گا.

🅾حضور صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا "بے نور ہو جائے اس کا چہرہ جو کوئی میری حدیث کو سن کر آگے نہ پوهچاے.```

11ایک خوبصورت واقعہ پڑھیے گا ضرور

ایک خوبصورت واقعہ پڑھیے گا ضرور!!!
اﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮔِﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ :
'' ﺍﮮ ﻋﺜﻤﺎﻥ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ''
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
'' ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮔِﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﻭﮞ۔ ''
ﺩﻋﻮﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﯿﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﺍِﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺫِﮐﺮ ﮐِﯿﺎ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﻋﻠﯽ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺑُﻼﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮑﺎ ﻟﻮﮞ۔ ''
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ  ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻭﺿﻮ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﺮ ﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
'' ﺍﮮ ﺍﻟﻠّﮧ ! ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺣﺒﯿﺐ ﻣﺤﻤّﺪ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﮐﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﻭ ﺧﺎﻟﻖ ﺁﺝ ﺗُﻮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﯽ ﻻﺝ ﺭﮐﮫ ﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻋﺎﻟﻢِ ﻏﯿﺐ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎ۔ ''
ﺳﯿّﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﻟﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔ﺍﻟﻠّﮧ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﮐﺮﻡ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﺎﻧﮉﯾﺎﮞ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﻦ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐِﯿﺎ ، ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ﺟﺐ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﺬّﺕ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ؟ ''
ﺗﻤﺎﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
'' ﺍﻟﻠّﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ''
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﻣﻨﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ''
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﺮﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
'' ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ، ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﺳﺘﻄﺎﻋﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﮮ۔ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏّ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻻﺝ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ﺍﺏ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﷺ ﺟﺘﻨﮯ ﻗﺪﻡ ﭼﻞ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺍُﻣّﺘﯽ ﺟﮩﻨّﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ۔ ''
ﺍِﺩﮬﺮ ﺳﯿّﺪﮦ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺍِﺱ ﺩﻋﺎ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍُﺩﮬﺮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺍﻣﯿﻦ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻭﺣﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦِ ﺧﯿﺮ ﺍﻻﻧﺎﻡ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺸﺎﺭﺕ ﺳُﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ :
'' ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺍُﻣّﺘﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨّﻢ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ''
اتنے خوبصورت واقعے کو پڑهنے کے بعد زیادہ سے زیادہ شیئر کریں کہ لوگوں کو علم ہوں. یہ صدقہ جاریہ ہے. جزاک اللہ خیر

Monday, 12 February 2018

16,مفید باتیں

🗒 *مفید باتیں* 🗒

جب انسان اپنی وقعت کھودے تو اسکے لئے بہترین پناہ خاموشی ہے
 الفاظ کبھی بھی انسان کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس نہیں دلا سکتے ۔
ہاں .... خاموشی مزید تذلیل سے بچا سکتی ہے۔

🗒 *مفید باتیں* 🗒

میں نے لوگوں کو بہت تولا ناپا، جانچا، پرکھا لیکن جب اپنی باری آئی تو مجھے ترازو ہی نہ ملا کیونکہ اپنے گریبان میں مجھ سے جھانکا ہی نہیں جاتا اور دوسروں کے عیبوں
سے نظر ہی نہیں ہٹتی!

🗒 *مفید باتیں* 🗒

زﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ہدایت مل جائے تو وﮦ ﯾﮧ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺑﺲ وہیں ﺳﮯ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﺪﻝ ﻟﮯ۔      
"کیونکہ ہدایت مل جانا بهی نصیب کی بات ھے

🗒 *مفید باتیں* 🗒

اللہ سے تعلق جوڑنے کا ایک ہی راز ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ اُس کے فیصلوں پر راضی رہنا سیکھو!
سچائ کو دبایا جاسکتا ھے چھپایا جاسکتا ھے لیکن اسے مٹایا نہیں جاسکتا

🗒 *مفید باتیں* 🗒

ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﻫﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﻬﯽ ﺳﮑﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﭘﮍﻫﺎ ﮐﺮﮮ،


🗒 *مفید باتیں* 🗒

اگر کوئی آپ سے بهلائی کی امید رکهےتو اسے مایوس مت کیجیئے، کیونکہ لوگوں کی ضرورت کا آپ سے وابستہ ہونا, ا آپ پر اللہ کا خاص کرم ہے.

🗒 *مفید باتیں* 🗒

انسان ہر وقت خود پر ترس کھاتا رہے، اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کے بارے میں سوچتا رہے تووہ دکھ اس پر حاوی ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر اس کی زندگی میں خوشیاں آتی بھی ہیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں پاتا۔

🗒 *مفید باتیں* 🗒

جب کسی کے لئے آپکا "ہونا نہ ہونا" برابر ہو- تو اسکو "اپنے ہونے" کا بار بار شدت سے احساس دلاتے رہنا بے معنی ہے- رابطے اتنے ہی رکھو جتنے تکلیف نہ دیں-

🗒 *مفید باتیں* 🗒

دلچسپی کو کبھی عادت مت بننے دیں، کیونکہ عادت بڑھ کر طلب بن جاتی ہے اور طلب بڑھ کر انسان کی کمزوری

🗒 *مفید باتیں* 🗒

ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺑﻮﺟﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﻗﺘﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺘﯽ ﺩﮐﮫ ﺍﻭﺭ ﺍﺫﯾﺖ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﻟﮯ

🗒🗒🗒🗒🗒🗒🗒🗒🗒

*جس کو نماز کا ترجمہ و تشریح نہیں آتی*

*جس کو نماز کا ترجمہ و تشریح نہیں آتی*

 اس کی نماز میں ادھر ادھر کے خیالات کا آنا بنسبت دوسروں کے زیادہ ممکن ہے اور ایسی نماز میں خشوع و خضوع کا ہونا مشکل ہے پھر نماز اللہ تعالی سے ملاقات اور راز ونیاز کا بہترین انداز ہے اس لئے کم ازکم

*نماز کا ترجمہ*
 تو ہر مسلمان کو لازمی آنا چاہئیے۔، آئیں نماز سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں.

*ثناء*

سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ.
(ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب الصلاة، باب ما يقول عند افتتاح الصلاة، 1 : 283، رقم : 243)

*’’اے اﷲ! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں، تیری تعریف کرتے ہیں، تیرا نام بہت برکت والا ہے، تیری شان بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘*

*تعوذ*

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ.

*’’میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا / مانگتی ہوں۔‘‘*

*تسمیہ*

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

*’’ﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔‘‘*


*سورۃ الفاتحہ*

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَO الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِO مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِO إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُO اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْO غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَO
(الفاتحة، 1 : 1. 7)

*’’سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہےo نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہےo روزِ جزا کا مالک ہےo (اے اللہ!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیںo ہمیں سیدھا راستہ دکھاo ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایاo ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا ہے اور نہ (ہی) گمراہوں کاo‘‘*

*سورۃ الاخلاص*

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌO اللَّهُ الصَّمَدُO لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْO وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌO
(الاخلاص، 112 : 1۔ 4)

*’’(اے نبی مکرّم!) آپ فرما دیجئے : وہ اﷲ ہے جو یکتا ہےo اﷲ سب سے بے نیاز، سب کی پناہ اور سب پر فائق ہےo نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہےo اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہےo‘‘*
t
*رکوع*

سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِيْمِ.
(ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الصلاة، باب ماجاء فی التسبيح فی الرکوع والسجود، 1 : 300، رقم : 261)

*’’پاک ہے میرا پروردگار عظمت والا۔‘‘*

*قومہ*

سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ.

*’’ﷲ تعالیٰ نے اس بندے کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔‘‘*

رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ.

(مسلم، الصحيح، کتاب الصلاة، باب إثبات التکبير فی کل خفض ورفع فی الصلاة، 1 : 293، 294، رقم : 392)

*’’اے ہمارے پروردگار! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔‘‘*

*سجدہ*

سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی.
(ابو داؤد، السنن، کتاب الصلاة، باب مقدار الرکوع و السجود، 1 : 337، رقم : 886)

*’’پاک ہے میرا پروردگار جو بلند ترہے۔‘‘*

*جلسہ*

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان درج ذیل دعا مانگتے :

اَللَّهُمَّ اغْفِرْلِيْ وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِيْ وَارْزُقْنِيْ.
(ابو داؤد، السنن، کتاب الصلاة، باب الدعا بين السجدتين، 1 : 322، رقم : 850)

*’’اے ﷲ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت پر قائم رکھ اور مجھے روزی عطا فرما۔‘‘*

*تشہد*

التَّحِيَّاتُ ِﷲِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اﷲِ الصّٰلِحِيْنَ. أَشْهَدُ أَنْ لَّا اِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ.
(ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الدعوات، باب فی فضل لَا حَول ولا قوة إلَّا بِاﷲِ، 5 : 542، رقم : 3587)

*’’تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اﷲ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اﷲ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اﷲ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘*

*درودِ اِبراہیمی*

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو، تین یا چار رکعت والی نماز کے قعدہ اخیرہ میں ہمیشہ درودِ ابراہیمی پڑھتے جو درج ذیل ہے :ش
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ.
اَللّٰهُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ، کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيْمَ، إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ.

ھم نے ماسٹر کو نہیں چھوڑنا


ھم نے ماسٹر کو نہیں چھوڑنا

یٹا باپ سے : ابا جی آپ نے میرے لئے امتحان میں کامیابی کی دعا کی تھی نا۔
باپ: جی بیٹا، بالکل کی تھی۔

بیٹا: اور اماں نے بھی، آپا نے بھی اور بھائی جان نے بھی کی تھی، سارے محلے والوں نے بھی دعا کی تھی، پچھلے جمعے مسجد میں سب نمازیوں نے بھی ملکر دعا کی تھی کہ میں پاس ھو جاؤں۔

باپ: تو پھر بیٹا؟

بیٹا: میری سمجھ میں نہیں آتا، سینکڑوں لوگوں نے میرے پاس ھونے کی دعا کی ایک ماسٹر صاحب نے فیل کر دیا۔
میں نہیں مانتا ماسٹر کو۔۔😠

سینکڑوں لوگوں کی دعاؤں کا احترام نہیں کیا ماسٹر نے
۔
آپ سب کی دعاوں کی توھین کی ھے نا ماسٹر نے ۔

ھم نے ماسٹر کو نہیں چھوڑنا ۔۔

کیا آپ میرا ساتھ دو گے ۔
ھاتھ کھڑا کر بتاو ۔ میرا ساتھ دو گے۔

میں نے ایسے سکول کو ھی نہیں رھنے دینا ۔۔
جہاں آپ سب کی دعاوں کی توھین ھوتی ھو
 ۔
بتاو سب میرا ساتھ دو گے ۔ دو گے یا نہیں ۔ ۔۔۔

باپ ۔ لعنت تیرے تے بغیرتا، بندے دا پتر بن، نواز شریف نہ بن○
😜😜😜😜😜😜😜😜😜😜😜😜😜😜

پوری قوم پاگل ھے ۔۔

۔
پوری قوم پاگل ھے ۔۔

 -- وزیراعظم ، اپنے گارڈ کے ھاتھ میں گن دے کر خود نہتا ، اس کے ساتھ چلتا ھے ۔

 ۔۔ لاکھوں روپے کی حفاظت کے لیے بنک 15000 روپے ماھانہ تنخواہ پر گارڈ رکھتا ھے ۔

1 ۔۔ ڈرائیوروں کے اشارے اپنے ھوتے ھیں ۔
رائٹ انڈیکیٹر کا مطلب ھوتا ھے ۔۔۔ کراس کر لو
لیفٹ انڈیکیٹر کا مطلب ھوتا ھے ۔ ابھی کراس نہیں کرو ۔ سامنے سے گاڑی آ رھی ھے
دائیں ، بائیں مڑنے کے لیےھاتھ کا استعمال کرتے ھیں ۔

2 ۔۔ اپنے سے جونیئر کو ترقی دی جاۓ تو فوجی استعفی دے دیتا ھے مگر سینما کی ٹکٹ بلیک کرنے والا صدر بن جاۓ ۔ تو اسے سیلوٹ مارتا ھے ۔

3 ۔۔ ماں ، بہن کی گالیوں کو مذاق سمجھتا ھے ۔ بیوی کی گالی سے چڑ جاتا ھے ۔

4 ۔۔ ان پڑھ قوم کے لیے ٹینکر پہ بچاؤ کی ھدایات انگریزی میں لکھتے ھیں ۔
ھائیلی انفلیمیبل ۔۔

5 ۔۔ سڑک پہلے بناتے ھیں ۔ پھر اسے کھود کر بجلی ، گیس کی لائنیں بچھاتے ھیں ۔

6 ۔۔ جو پورے پاکستان سے مسترد ھو کر ، صرف ایک حلقےسے 10 ووٹوں سے جیت جاۓ ، وہ بھی وزیر اعظم بن سکتا ھے اور جو الیکشن ھی نہ لڑے، منی لانڈرنگ کرےمفرور اشتہاری ہو وہ بھی وزیر خزانہ بن سکتا ھے ۔

7 ۔۔ عدالت میں کیس چلتے رھیں ۔ بندہ پھر بھی صدر اور وزیراعظم کے منصب پہ رہ سکتا ھے

8 ۔۔ جس کو سورت اخلاص نہیں آتی ، وہ وزیر داخلہ بن سکتا ہے اور جسے پورا قرآن حفظ ھے ، وہ دھشت گرد بن سکتا ھے ۔

9 ۔۔ مسجدوں سے بجلی کے بل میں ٹی ۔ وی لائیسنس کی فیس وصول کرتے ھیں ۔ اور ملک کا نام ھے ۔۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان

10۔۔ حادثات میں مرنے ، جلنے والوں کے ورثا کو کروڑوں بانٹ دیں گے ، مگر حادثات کی روک تھام ، سزا جزا اور ایمرجنسی سے نمٹنے پر ٹکہ خرچ نہیں کریں گے ۔

11 ۔۔ خود قرضے پہ قرضہ لیتے رھتے ھیں اور عوام کو بچت اسکیموں کی ترغیبیں دیتے ھیں

12۔۔ کھلاڑیوں کو کروڑوں روپے انعام دیتے ھیں ، طالب علم کو سکولوں میں کرسیاں بھی میسر نہیں

13 ۔۔ کرمنل اور ان پڑھ لوگ ، ایم پی اے ۔۔ ایم این اے ۔۔ وزیر ۔۔ وزیر اعلی ۔ وزیر اعظم اور صدر بن سکتے ھیں ۔۔۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے ، کلرکی اور پیلی ٹیکسیاں ۔۔

14۔۔ خود ۔۔۔ زبان ، قوم ، ملک اور مذھب کے نام پہ لڑتے مرتے ھیں ۔ مگر خوبصورت عورت پر سب کا اتفاق ھے چاھے کسی زبان ، قوم ، ملک اور مذھب کی ھو
۔۔۔
---------------
ھوسکے تو پهیلا دواسے شاید کوئی تبدیلی آجاۓ
کہاں تک سنو گے ۔۔۔۔ کہاں تک سناؤں✍

سی سیکشن، پاکستان میں حاملہ خواتین کے ساتھ کھیلا جانے والا خطرناک کھیلcc

پاکستان کا ایک خطرناک کھیل جو پاکستان کی حاملہ خواتین کے ساتھ کھیلا جاتا ہے اور وہ کھیل یہ ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں پچھلے کچھ عرص...