قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی کے پانچ دلچسپ واقعات یہ ہیں بابائے قوم ایسا لیڈر صدیوں بعد پیدا ہوتے
1۔مسلمانوں کے عظیم رہنما اور بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ قیام پاکستان کے بعدگورنر جنرل کی حیثیت سے ملک چلا رہے تھے ،ایک دن برطانیہ کے سفیر نے کہا کہ برطانیہ کے بادشاہ کا بھائی آج پاکستان کے فضائی اڈہ (ائرپورٹ) پہنچ رہا ہے آپ انہیں لینے جایئے گا ،قائداعظم نے انتہائی دبدبے سے فرمایاآپکے بادشاہ کے بھائی کو لینے چلا جاؤں گا لیکن ایک شرط پر کے کل جب میرا بھائی برطانیہ جائےگا تو آپ کا بادشاہ جارج اسکو لینے (ائرپورٹ) جائے گا ، یہ سن کر سفیر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا ۔
2۔ ایک دفعہ قائداعظم کے ملازم نے ایک رقعہ آپکے سامنے رکھا کے یہ شخص آپ سے ملنا چاہتا ہے ، اس پر انکے بھائی کا نام لکھا تھا اور ساتھ میں تعارف میں لکھا تھا (برادر آف محمد علی جناح) ، یہ پڑھتے ہی قائداعظم نے رقعہ پھاڑ کر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہلا بھیجاکہ ’’اس کو کہہ دوکہ اس طرح کبھی میرے نام کا حوالہ آئندہ استعمال نہ کرے۔
3۔ قائداعظم کے دفتر کا فرنیچر حکم صادر کیا گیا جو کے سینتیس روپے تھا ، آپ کو خزانے سے ادائیگی کے لیے دستخط کرنے کے لیے پیش کیا گیا آپ نے رقم دیکھی تو پوچھا اس میں یہ سات روپے کی فالتو کرسی کیوں منگوائی ہے (سیکٹری) نے کہا سر یہ فاطمہ جناح صاحبہ کے لیے ہے جب وہ دفتر آتی ہیں تو انکے بیٹھنے کے لیے منگوائی ہے ، قائداعظم نے سات روپے کاٹ کر تیس روپے کا بل منظور کرتے ہوئے فرمایا۔ اگر فاطمہ کو کرسی کی ضرورت ہے تو کرسی کے سات روپے فاطمہ سے جا کر وصول کرو ، قومی خزانہ نہیں دے گا ۔
4۔ ایک بار قائد اعظم سفر کر رہے تھے سفر کے دوران انہیں یاد آیا کہ غلطی سے ان کا ریل ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اور وہ بلا ٹکٹ سفر کر رہے ہیں جب وہ اسٹیشن پر اترے تو ٹکٹ معائنہ کار (ایگزامنر) سے ملے اور اس سے کہا کہ چونکہ میرا ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اس لیے دوسرا ٹکٹ دے دیں ٹکٹ (ایگزامنر) نے کہا آپ دو روپے مجھے دے دیں اور آرام سے بغیرٹکٹ چلے جائیں قا ئداعظم یہ سن کر طیش میں آگئے انہوں نے کہا تم نے مجھ سے رشوت مانگ کر قانون کی خلاف ورزی اور میری توہین کی ہے بات اتنی بڑھی کہ لوگ اکھٹے ہو گئے ٹکٹ (ایگزامنر) نے لاکھ جان چھڑانا چاہی لیکن قائداعظم اسے پکڑ کر (اسٹیشن ماسٹر) کے پاس لے گئے بالاخر ان سے رشوت طلب کرنے والا قانون کے شکنجے میں آگیا۔
5۔ وکالت میں بھی قائدِاعظم کے کچھ اُصول تھے جن سے وہ تجاوز نہیں کرتے تھے۔ وہ جائز معاوضہ لیتے تھے۔ مثلاً ایک تاجرایک مقدمہ لے کر آیا۔
مؤکل:مَیں چاہتا ہوں کہ آپ اس مقدمہ میں میری وکالت کریں۔آپ کی (فیس) کیا ہوگی۔
قائدِاعظم: مَیں مقدمے کے حساب سے نہیں، دن کے حساب سے (فیس) لیتا ہوں۔
مؤکل: کتنی؟
قائدِاعظم: پانچ سوروپے فی پیشی۔
مؤکل: میرے پاس اس وقت پانچ ہزار روپے ہیں۔ آپ پانچ ہزار میں ہی میرا مقدمہ لڑیں۔
قائدِاعظم: مجھے افسوس ہے کہ مَیں یہ مقدمہ نہیں لے سکتا۔ہوسکتا ہے کہ یہ مقدمہ طول پکڑے اور یہ رقم ناکافی ہو۔ بہتر ہے کہ آپ کوئی اور وکیل کرلیں کیوں کہ میرا اصول ہے کہ مَیں فی پیشی (فیس) لیتا ہوں۔ چنانچہ قائدِاعظم ؒنے اپنی شرط پر مقدمہ لڑا اور اپنی فراست سے مقدمہ تین پیشیوں ہی میں جیت لیا اور (فیس) کے صِرف پندرہ سو روپے وصول کیے۔ تاجر نے اس کامیابی کی خوشی میں پورے پانچ ہزار پیش کرنا چاہے تو قائدِاعظم نے جواب دیا، ’’میں نے اپنا حق لے لیا ہے۔ اور زائد رقم لینے سے انکار کردیا۔
پیر جماعت علی شاہ اپنے دور کے بہت نیک سیرت اللہ کے بندوں میں شمار ہوتے تھے انہوں نے ایک دفعہ کہا کہ محمد علی جناع اللہ کا ولی ہے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ آپ اس شخص کی بات کر رہے ہیں جو دیکھنے میں گورا یعنی انگریز نظر آتا ہے اور اس نے داڑھی بھی نہیں رکھی ہوئی ۔تو پیر جماعت علی شاہ صاحب نے فرمایا ’’ کہ تم اس کو نہیں جانتے وہ ہمارا کام کر رہا ہے‘‘۔پیر صاحب کے اس دور میں تقریبا 10 لاکھ مرید تھے ۔آپ نے اعلان فرمایا تھا کہ اگر کسی نے مسلم لیگ اور قائداعظم کو ووٹ نہ دیا۔ وہ میرا مرید نہیں۔
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے محمد علی جناح کے بارے میں فرمایا "محمد علی جناح کو نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ شخص خیانت کر سکتا ہے‘‘۔
اللہ عزوجل قائداعظم محمد علی جناح کی مرقد پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین
No comments:
Post a Comment